![]() |
|---|
|
| If you can't read this font click here. |
ٹھیک ہے، ماضی
میں چرچ نے عورتوں کو کاہن مقرر کئے جانے پر انکار کیا تھا۔
لیکن کیوں؟ جب ماضی
میں انصاف کرنے والے نے کلیسیاء میں مداوت کی، ہمیں لازماَ وجوہات کا مطالعہ کرنا چاہیے تھا کہ کیوں چیزوں کو اس طرح کیا گیا جس طرح انہوں نے کیا جس طرح وہ تھے۔
جیسے کہ عورتوں کے لئے، ہماری
تلاش اُلجھن میں ڈالنے والی
ہے۔
عورتیں غلط وجوہات کی
بناء پر مکمل طور پر کاہنانہ خدمت سے مستثنیٰ(خارج) تھیں۔


کاہنانہ
خدمت
کے لئے بانجھ
عورت
سے تین
گناہ
تعصب:
1:
عورتوں
کو ہر
پہلو میں مردوں
سے کمتر
قیاس
کیا
جاتا تھا:
جسمانی
طور پر،
شعوری
طور پر،
اور جذباتی
طور پر۔
اُس وقت
سے یہ
یقین
کیا
جاتا تھا
کہ صرف
مرد کا
مادہِ حیات(تخم)
مستقبل
میں
بچہ پیدا کرنے
کا حامل
ہے، عورتوں
کو نامکمل
انسانی
مخلوق کے
طور پر
دیکھا
جاتا تھا۔مختصراَ
یہ کہ،
عورتوں کو ادنیٰ
تصور کیا جاتا
تھا۔
2: جب سے حّوا
بنی نوع
انسان کے
فضل سے
گرنے کا
سبب بنی، ہر
عورت کو
اُس کے
گناہ کی
لعنت کو
اُٹھا ئے
رکھنے کے
طور پر
سوچا گیا۔عورتوں
کو گناہ
آلودہ
مخلوقات
کے طور
پر علامت
ٹھہرایا گیا۔
3: لوگوں
نے سوچا
کہ حیض کا
جاری رہنا
آپ
کو ناپاک
بناتا ہے۔
ناپاک
مخلوقات
کے طور
پر، عورتوں
کو قربان
گاہ اور
مقدس عبادات
سے دور
رکھا گیا۔
چرچ کو مستقل
طور پر بذات
خود سماجی
اور تہذیبی تعصب
سے آزادی
کی ضرورت
ہے جو اِس کی تعلیم اور
عمل کو آلودہ
کرتا
ہے:
1854 سے پوپ صاحبان نے سوچا کہ
خُدا نے
غلامی کی
اجازت دی، اب
کچھ نہ
کچھ مکمل طور پر چرچ کے
وسیلے
ممنوع ہے۔
چرچ
نے اپنی پوری تاریخ میں اِسی طرح کی بے شمار
غلطیاں
کیں۔
آج عورتیں تعلیمی تعصب
سے آزاد ہونے
کی مستحق
ہیں
اُس تعلیم کے
لئے جو
اُن کی خُدا کے
سچے منصوبے
میں
ہے، جو
اب بھی اُنھیں منسٹریز میں بانٹنے
سے منع
کرتی ہے۔


Join our Women Priests' Mailing List
for occasional newsletters:
An email will be immediately sent to you
requesting your confirmation.
