1988تک پوپس
اور اُن کے
دفاتر نے
غلامی کے
قانون کا
سامنا
کیا!
فادرز،
چرچ اراکین،
پوپس اور ماہر
الہٰیات نے
اِس غلامی کو
قائم رکھا، یہ
شرعی طور پر
مالک ہوسکتے،
خرید سکتے اور
بیچ سکتے
تھے۔
نے اب
بھی 20جون 1866میں
اعلان
کیا:"غلامی
بذات خود،
اپنی The Congregation for Doctrine in
Rome
فطرت
کے طور پر
قیاس کی جاتی
ہے یہ فطرتی
قانون یا خُدا
کے قانون کے
برعکس نہیں
ہے۔ یہاں
غلامی کے بے
شمار موضوعات
ہوسکتے
ہیں۔۔۔۔۔یہ
فطرتی اور
الہٰی قانون
کے خلاف ہیں
غلام کے بیچے
جانے، خریدے،
تبدیل یا دئیے
جانے کے
بارے۔  |
|

Catholic bishops, theologians and activists
who campaigned for abolition were branded as troublemakers and
heretics. |